بنجر پڑا ہوا ہوں کوئی دیکھتا نہیں
میں وہ ہوں جس پہ ابر کا سایہ نہیں پڑا
بنجر پڑا ہوا ہوں کوئی دیکھتا نہیں
میں تو خدا کے ساتھ وفادار بھی رہا
یہ ذات کا طلسم مگر ٹوٹتا نہیں
یوں ٹوٹتا ضرور بکھرتا ضرور ہوں
میں چاک پیرہن نہیں خونیں قبا نہیں
میں نے الجھ کے دیکھ لیا اپنی گونج سے
اب کیا صدا لگاؤں کوئی جاگتا نہیں
حد بندئ خزاں سے حصار بہار تک
جاں رقص کرسکے تو کوئی فاصلہ نہیں
ساقی فاروقی
Comments
Post a Comment