برف آخر چھٹ گئی شاخوں پہ پتے آ گئے
برف آخر چھٹ گئی شاخوں پہ پتے آ گئے
کچھ دنوں کی بات ہے سمجھو پرندے آ گئے
اس نے اپنے عاشقوں کی لسٹ کچھ ایسے پڑھی
ہم جو آخر میں کھڑے تھے سب سے پہلے آ گئے
موت کو چکمہ دیا تو زندگی نے آ لیا
حادثے سے بچ گئے تو تیرے آگے آ گئے
میں تو کب کا بول دیتا مجھ کو تم سے پیار ہے
کھڑکیوں میں کھلنے والے پھول آڑے آ گئے
تہمتوں کا سارا ملبہ اس کے اوپر آ گرا
ہم بھی اس کے ساتھ تھے سو ہم بھی نیچے آ گئے
بستی والے کشمکش میں تھے کہ جائیں یا نہ جائیں
اور پھر اس کے جنازے میں پرندے آ گئے
سب کو اک کرنے کا اپنا شوق پورا ہو گیا
جیسے منبر پر چڑھے تھے ویسے نیچے آ گئے
ضیاء مذکور
Comments
Post a Comment