ایک قدم خشکی پر ہے اور دوسرا پانی میں

ایک قدم خشکی پر ہے اور دوسرا پانی میں
ساری عمر بسر کردی ہے نقل مکانی میں
آنسو بہتے ہیں اور دل یہ سوچ کے ڈرتا ہے



 آنکھ کہیں کوئی بات نہ کہہ دے اس سے روانی میں
دو جیون تاراج ہوئے تب پوری ہوئی اک بات
کیسا پھول کھلا ہے اور کیسی ویرانی میں
جب اسے دیکھو آنکھ اور دل کو ساتھ ملا لینا
اک آئینہ کم پڑجائے گا حیرانی میں
راہ میں سارے چراغ اسی کے دم سے روشن ہیں
جو پیمان ہوا سے باندھا تھا نادانی میں

جمال احسانی

Comments