عمر کیا تھی ابھی

عُمر کیا تھی ابھی
بیس بائیس برس بھی کوئی عُمر ہے
اور اِس عُمر میں لڑکیاں پُھول خُوشبو ستارے دیے اچھے لگنا کوئی غیر فطری نہیں
خواب آنکھوں پہ الہام ہونے کی بالکل یہی عُمر ہے 
دل نے اِس عُمر میں خواب دیکھے اگر تو بُرا کیا کیا ؟
چاند چھونے کی خواہشں کوئی جُرم ہے ؟
دل نے تاروں کو پانے کی خواہش میں گر اپنا دامن کشادہ کیا تھا تو کیوں جُرم سمجھا گیا
میری آنکھوں کی پُتلی میں رکھے ہوئے خواب نوچے گئے
زخم کاڑھے گئے
ربِ عشق و رضا
بیس بائیس برس بھی کوئی عُمر ہے
اور اِس عُمر میں روگ لگ جائے تو آخری عُمر تک روگ جاتا نہیں
سوگ جاتا نہیں
ربِ ارض و سماء
بیس بائیس برس بھی کوئی عُمر تھی
اور اِس عُمر میں روگ لگ بھی گیا
یار ٹھگ بھی گیا

میثم علی آغا

Comments