ساری دنیا کے چراغوں سے ہیں پیاری آنکھیں
ساری دنیا کے چراغوں سے ہیں پیاری آنکھیں
میری منزل کا نشاں ہیں یہ تمہاری آنکھیں
تیرے معصوم سے چہرے کی زیارت کے لیۓ
میں نے مانگی ہیں فرشتوں سے ادھاری آنکھیں
چھین لیتے ہو جو یہ دید کی دولت ہم سے
ہم کو بے نور سی لگتی ہیں ہماری آنکھیں ۔
مُجھ کو دنیا کا کوئی حُسن دکھائی نہ دیا
مِرے اعصاب پہ رہتی ہیں یہ طاری آنکھیں
ایک لمحے کو بچھڑنے کا جو سوچا دل نے
رات بھر کرتی رہیں زخم شماری آنکھیں
میری قسمت کے اندھیروں کو مٹانے کے لیۓ
عرش سے میرے لیۓ رب نے یہ اُتاری آنکھیں
وہ بھی یوسف کی طرح آئے جو کبھی محفل میں
غرق ِ حیرت ہوں وہاں ساری کی ساری آنکھیں ,
فوزیہ شیخ
Comments
Post a Comment