اسی ندامت سے اس کے کندھے جھکے ہوئے ہیں

اِسی ندامت سے اُس کے کندھے جُھکے ہوئے ہیں
کہ ہم چھڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ہیں
یہاں سے جانے کی جلدی کس کو ہے تُم بتاؤ
کہ سُو ٹ کیسوں میں کس نے کپڑے رکھے ہوئے ہیں



 کرا تو لُوں گا علاقہ خالی میں لڑ جھگڑ کر
مگر جو اُس نے دِلوں پہ قبضے کیئے ہوئے ہیں
وُہ خُود پرندوں کا دانہ لینے گیا ہوا ہے
اور اُسکے بچے شکار کرنے گئے ہوئے ہیں
ضیاء مذکور

Comments