آنکھ میں خواب بھی نہیں روح پہ قہر ہے کوئی
آنکھ میں خواب بھی نہیں روح پہ قہر ہے کوئی
اب کے ہو ائے شہر میں اور ہی زہر ہے کوئی
وسعت ریگزار میں یوں ہی نہیں ہیں قافلے
سر میں کوئی جنون ہے آنکھ میں شہر ہے کوئی
عشق کی آبنائے کودیکھ کے فیصلہ کریں
کوئی وصال کا بھنور ہجر کی لہر ہے کوئی
میرے قدم کامنتظر میری طلب میں سرگراں
اور ہی آسمان ہے اور ہی دہر ہے کوئی
دشت ودیار خوب ہیں اہل وعیال خوب ہیں
یہ بھی مگر بتائیے قریۂ مہر ہے کوئی
اسعد بدایونی

Comments
Post a Comment