درود پڑھ کے اگر کوئی ابتدا نہ کرے
دُرُود پَڑھ کے اگر کوئ اِبتِدا نہ کرے
اُسے یہ چاہیے پِھر ذِکرِ مُصطفیٰ نہ کرے
چراغِ حُبِ نبی کرکے دیکھیے روشن
مجال کیا ہے حِفاظت جو پِھر ہَوا نہ کرے
زبان وہ کِسی مومِن کی ہو نہیں سکتی
”خدا کا ذِکر کرے ذِکرِ مُصطفیٰ نہ کرے“
اُسے سکُون کی مَنزِل نہ مِل سکے گی کبھی
جو اِختِیار شریعت کا راستہ نہ کرے
دیا ہے درس طائف میں یہ سرورِ دِیں نے
کِسی کے حق میں کوئ شخص بد دعا نہ کرے
شہءِ اُمم کی غُلامی دلیلِ آزادی
غُلام کیا جو غُلامی کا حق ادا نہ کرے
عَمَل نہیں تو نہیں عِشق مُعتَبر اعجازؔ
کوئ ثناۓ زبانی پہ اِکتِفا نہ کرے
اعجاز رحمانی
Comments
Post a Comment