سینے پہ یہ چٹان ابھی ہے ابھی نہیں
اک کھیل ہے جو کھیلتی رہتی ہے اس کی یاد
سینے پہ یہ چٹان ابھی ہے، ابھی نہیں
بس دو گھڑی کی دھوپ ہے دنیا کہیں جسے
ساۓ کا یہ نشان ابھی ہے، ابھی نہیں
ہیں دل کے اختیار میں یہ ناقہ ہاۓ شوق
لیکن یہ ساربان ابھی ہے، ابھی نہیں
اکبر معصوم
Comments
Post a Comment