تم دریچہ ہو کہکشاٶں کا
تم دریچہ ہو کہکشاٶں کا
روشنی کا بہاٶ تم سے ہے
میری دیوارِ جاں گرے کہ گرے
دل پہ اب کے دباٶ تم سے ہے
دل لگی کی اگرچہ عمر نہیں
دل کو پھر بھی لگاٶ تم سے ہے
میں تو یوں ہی بھڑکتا پھرتا ہوں
در حقیقت الاٶ تم سے ہے
مفت بدنام ہو گیا خنجر
زخم تم سے ہے گھاٶ تم سے ہے
ڈاکٹر محمد کامران
Comments
Post a Comment