ایک پتھر سے دل لگا ہوا ہے

ایک پتھر سے دل لگا ہوا ہے
آٸینہ عکس میں بٹا ہوا  ہے
اُس سے بڑھ کر مجھے عطا کر دے
میری قسمت میں جو لکھا  ہوا ہے



 دل کو جاری ہے خون کی ترسیل
پر کہیں کانچ سا چبھا ہوا  ہے
وہ یہ کہتا ہے ، ”میں تمہارا ہوں“
اور یہ جملہ مجھے رٹا ہوا  ہے
خود فریبی ہی خود شناسی ہے
اور دنیا میں کیا رکھا  ہوا ہے
پھول کھلتے ہیں روز دنیا میں
خوشبوٶں کا سفر رکا ہوا  ہے
جس کو جانا ہو وہ چلا جاٸے
بے وفاٸی کا دَر کھلا  ہوا ہے
کرنے والا ہوں اپنا گھر مسمار
سوچتا ہوں کہ مجھ  کو کیا ہوا ہے
کامران آج لکھ غزل کوٸی
دل کسی درد سے  بھرا ہوا ہے
ڈاکٹر محمد کامران

Comments