سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور شعراء کے تاثرات

سانحہء پشاور/ 16 دسمبر 2014
-----------------
زندگی اپنی حرارت سے تہی ہے
رگوں میں خون جیسے جم گیا ہے
گھروں میں کوچہ و بازار میں شہروں میں
ہر سو سوگ ہے
کہرام ہے چیخیں ہیں آہیں ہیں
یہ کن وحشی درندوں نے صفِ ماتم بچھا دی ہے
ٖفضا ماتم کناں ہے
ہوائیں نوحہ خوانی کر رہی ہیں
یوسف خالد

(16 دسمبر 2014 ، آرمی پبلک سکول پشاور کے دلخراش سانحے کے حوالے سے نظم )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قتلِ گُل
کہیں اِک باغ ہے جس میں ہزاروں پھول کِھلتے ہیں
جہاں پر علم کا سورج چمکتا ہے !
عجب سی روشنی ہے جو
شفیق و مہرباں ہونٹوں کے پیالوں سے ٹپکتی ہے
تو پیاسے علم سے سیراب ہوتے ہیں
عجب سی روشنی ہے۔۔۔۔ سوچ کو روشن بناتی ہے
ذہانت سے بھری آنکھیں اندھیرے میں چمکتی ہیں
کہیں اِک باغ تھا جس میں ہزاروں پھول کھلتے،روشنی میں کھلکھلاتے تھے
اندھیروں کے پجاری تاک میں بیٹھے ہوئے تھے
اپنے اندر کے اندھیرے چہروں پہ مَل کر
اِرادہ روشنی کے قتل کا لے کر
دبے پاؤں چلے آئے
اندھیرے روشنی پر وار کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
مگر یہ نور ایسا ہے جو ہرگز مٹ نہیں سکتا
مرے مَسلے ہوئے پھولوں کی خوشبو چار جانب ہے
مرے کم سِن شہیدوں کے لہو کا نور ہر سو ہے
ہمارے باغ کے پھولوں کو مَسلا ہے ؟ ! 
اندھیرو ! پھیلتی کرنوں پہ ، ننھی کونپلوں پہ وار کرتے ہو !
سنو ! یہ علم کا سورج بجھا سکتے نہیں ہو تم
اندھیرو ! روشنی آئی ھے
اب جانیں بچا سکتے نہیں ہو تم !
شہزاد نیّر

نذر شہداءِ ہائے سانحہءِ پشاور 16 دسمبر
غزل
پہرے لگے ہُوئے کہیں جالے لگے ہُوئے
کُچھ کہہ رہے تھے شہر میں تالے لگے ہُوئے
ہاتھوں سمیت توڑے گئے تھے مرےگلاس
چھینے گئے تھے منہ سے نوالے لگے ہوئے
پونچھے تھے ہم نے پاؤں کے چھالوں سے خوں کے اشک
آنکھوں سے ، رہ کے خار نکالے لگے ہوئے
جاتے کہاں کہ چاروں طرف تھی مہیب رات
تاریکیوں کے ہاتھ اُجالے لگے ہوئے
راحت اُجڑ گیا وہ خزاؤں سے باغِ خواب
جس میں تھے پھول پات نرالے لگے ہوئے
راحت سرحدی

تُو نے جنت کی چاہ میں ظالم
میری جنت اُجاڑ ڈالی ہے 
 ملک حبیب

" سانحہء پشاور پہ ماؤں کے دل کی کیفیت کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے"
" اے میرے گھر کے چاند ترے سا تھ کیا ہوا "
معصوم کا کفن ہے جو خو ں میں بھرا ہوا
اے میرے گھر کے چاند ترے سا تھ کیا ہوا
کوئی بتادے لال کا میرے تھا کیا قصور
اسکول اس کا جانا ہی کیسے خطا ہوا
آنکھوں سے میرے بہتا ہے بے اختیار خون
دیکھوں گی کیسے چاند کا ٹکڑا کٹا ہوا
بے شک شہید ہے مر ا نو رِ نظر مگر
وہ بن ملے ہی ماں سے ہے جنت گیا ہوا
اے کاش ظا لمو تمھیں ا حساس ہو سکے
ما ؤں کی زند گی میں جو محشر بپا ہوا
طاقت کہاں وہ لفظ میں جو کرب کہہ سکے
غمگین ہو کہ دل مرا نوحہ سرا ہوا
دنیا ہے گر سبیلہ مکافات سب کی تو
دیکھیں گے پھر وہ با غ کو اپنے جلا ہوا
سبیلہ انعام صدیقی

جنت میں سہمے ہوئے 140 پرندوں کا غول
کہیں سے اڑ کر آیا اور درختوں کی شاخوں پر
خاموشی سے بیٹھ کر
بچھڑے ہوؤں کو یاد کرنے لگا ہے،
سنا ہے کل یزید، ہٹلر، چنگیز خان اور فرعون
دوزخ میں گلے لگ لگ کر روئے،
سنا ہے کل شیطان نے اپنے بچوں کو
۔"اعوذبااللہ من الانسان" پڑھنے کا سبق دیا،
سنا ہے کل شہروں کے قریب رہنے والے درندے
رات بھر اپنے بچوں کی حفاظت کے لیئے پہرہ دیتے رہے،
سنا ہے کل باغوں کی سبھی کلیوں نے
کھلنے سے یکسر انکار کردیا ہے،
سنا ہے کل طاقوں میں جلےتمام چراغ
جلتےبھی رہے اور جلاتےبھی رہے
مگر اندھیرا نہ چھٹا۔
سنا ہے کل سے پہلے زندگی موت سے ڈرتی تھی
مگر اب موت زندگی سے ڈرنے لگی ہے،
سنا ہےکل اسرافیل نے صور پھونک دیا
مگر دنیا میں رہنے والے
اسے سن نہ سکے،
سنا ہے کل آدم کو سجدہ کرنے والے فرشتے
کچھ شرمندہ، کچھ پشیمان تھے،
سنا ہے کل فرشتوں نے خدا سے
پھر پوچھا کہ "تو
اس کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے جو دنیا میں فساد کرے گا
اور خون بہائے گا"
سنا ہے کل خدا نے پھر کہا ہے
"میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
نا معلوم شاعر


سانحہ پشاور
کن بھڑیوں نے اِن کے بھنبھوڑے ہیں تن بدن
لگتا ہے یوں کہ کسی جنگل سے آئے ہیں 
بَستوں کے ساتھ ساتھ ہیں بچوں کی میتیں
مکتب سے آئے یا کیسی مقتل سے آئے ہیں
انور مسعود

سانحہٴ پشاور پر..... نوحہ
اے ہَواؤ سُنو !
سَر جُھکاۓ ہوۓ
سِسکیاں مت بھرو
تار کر دو رِدایٔیں
لبادے سبھی نوچ لو
بَین کرتی رہو
آج بیٹے مِرے
عِلم کی کھوج میں
سُوۓ مقتل چلے
اِن کو رخصت کرو
آؤ ماتم کرو
اے ہَواؤ سُنو !
آوٴ ماتم کرو !
نوشی گیلانی
...


16 دسمبر 2014 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنسوؤں کو میں کہاں تک روکوں
قافلہ اِذنِ سفر مانگتا ھے ۔
انور مسعود

Comments