غم ہو ایسا کہ ہمیں رونا رلانا نہ پڑے

غم ہو ایسا کہ ہمیں رونا رلانا نہ پڑے
غمگساروں کو بھی تفصیل میں جانا نہ پڑے



جاتے جاتے مرے حق میں یہ دعا کرتا جا 
میں جدھر جاوں ادھر تیرا ٹھکانا نہ پڑے

آپ اپنی ہی نگاہوں سے نہ اوجھل ہو جائیں 
ڈھونڈنے خود کو کہیں بھیڑ میں جانا نہ پڑے

ذکر آتے ہی ترا بات بدل دیتا ہوں 
غایبانہ تجھے  تصویر میں آنا نہ پڑے

ان سنی کر نہ خموشی کو مری اتنا بھی
دیکھ آہوں کو مری شور مچانا نہ پڑے

اپنی پہچان کی حد میں ہی سنواریں خود کو
کل کو آئینے پہ الزام لگانا نہ پڑے

راجیش ریڈی

Comments