برسات


برسات

ہم سے کہیے درد کے قِصّے
ہم سے کیجئے رنج کی بات
ہم پر بِیتے کیا کیا موسم
تنہا دل، لاکھوں آفات
آج ہی دل کچھ ٹھہرا تھا
اور آج ہی آنکھیں کچھ خُشک سی تھیں
آج ہی ظالم ٹُوٹ کے برسی
موسم کی پہلی برسات

پیرزادہ قاسم صدیقی

Comments