ان سے ملیے جو یہاں پھیر بدل والے ہیں
ان سے ملیے جو یہاں پھیر بدل والے ہیں
ہم سے مت بولئے ہم لوگ غزل والے ہیں
کیسے شفاف لباسوں میں نظر آتے ہیں
کون مانے گا کہ یہ سب وہی کل والے ہیں
لوٹنے والے اسے قتل نہ کرتے لیکن
اس نے پہچان لیا تھا کہ بغل والے ہیں
اب تو مل جل کے پرندوں کو رہنا ہوگا
جتنے تالاب ہیں سب نیل کمل والے ہیں
یوں بھی اک پھوس کے چھپر کی حقیقت کیا تھی
اب انہیں خطرہ ہے جو لوگ محل والے ہیں
بے کفن لاشوں کے انبار لگے ہیں لیکن
فخر سے کہتے ہیں ہم تاج محل والے ہیں
منور رانا

Comments
Post a Comment