یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں
یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں
کروگے یاد ایسا آدمی ہوں
مرا نام و نسب کیا پوچھتے ہو
ذلیل و خوار و رسوا آدمی ہوں
تعارف اور کیا اس کے سوا ہو
کہ میں بھی آپ جیسا آدمی ہوں
چلے آیا کرو میری طرف بھی
محبت کرنے والا آدمی ہوں
توجہ میں کمی بیشی نہ جانو
عزیزو میں اکیلا آدمی ہوں
گزاروں ایک جیسا وقت کب تک
کوئی پتھر ہوں میں یا آدمی ہوں
شعور آجاؤ میرے ساتھ، لیکن
میں اِک بھٹکا ہوا سا آدمی ہُوں
انور شعور

Comments
Post a Comment