ستم ہو قہر ہو آفت بلا ہو

ستم ہو قہر ہو آفت، بلا ہو
یہ سب کچھ ہو مگر پھر دل ربا ہو

کسی کے غم میں کوئی رو رہا ہو
کوئی پردے سے چھپ کر دیکھتا ہو

بتاؤ کیا تمہارے دل پہ گزرے
اگر کوئی تمہیں سا بیوفا ہو

جگر مراد آبادی

Comments