دل میں اک رشک حور رہتا ہے
دل میں اک رشکِ حُور رہتا ہے
پاس رہتا ہے دور رہتا ہے
میں تو رکھوں ہزار پہلو میں
کب دلِ ناصبور رہتا ہے
ہو گیا کیا مریدِ مے زاہد
اب تو چہرے پہ نُور رہتا ہے
پوچھنا ہے یہ ان نگاہوں سے
عشق کیوں ناصبور رہتا ہے
چشمِ ساقی کی خیر ہو یا رب!
بے پئے ہی سرور رہتا ہے
عشق مرنے پہ بھی نہیں مٹتا
یہ تعلق ضرور رہتا ہے
وہیں آہیں، وہی ہوں میں، لیکن
اب دھواں دور دور رہتا ہے
جگر مراد آبادی

Comments
Post a Comment