وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے

وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے
کہ دل کا پاسباں کھٹکا ہوا ہے

وہ مصرع تھا کہ اِک گل رنگ چہرہ
ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے



ہم اُن آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں
یہ ہاتھ ، اُس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے

یقینی ہے اَب اِس دل کی تباہی
یہ قریہ ، راہ سے بھٹکا ہوا ہے

گلوں کے قہقہے ہیں، چہچہے ہیں
چمن میں اِک چمن چٹکا ہوا ہے

گلہ اُس کا کریں کس دل سے، خالد!
یہ دل کب ایک چوکھٹ کا ہوا ہے

خالد احمد

Comments