کوئی کیا سمجھے جو کچھ ہے دل و دلدار کے بیچ

کوئی کیا سمجھے جو کچھ ہے دل و دلدار کے بیچ
سنو اے یارو! نہ آؤ مِرے اور یار کے بیچ
دل بِکا ہاتھ بتوں کے، نہیں پاتا عزت
قدر و قیمت نہیں قرآن کی کفار کے بیچ
اس قدر رکتا ہے کیوں کثرتِ عشاق سے تُو
جنس ہے پیش بہا، جوشِ خریدار کے بیچ
شیخ دیکھا تمہیں ہو پاؤں سے سر تک تزویر
سربزرگی ہے یہی آپ کی دستار کے بیچ
دیکھ لو اس کی زباں پر جو ہے اس کے دل میں
صاحبو! فرق ہے کچھ سبحہ و زنار کے بیچ
غیر آیا غمِ ہجراں میں مِری لینے خبر
جیسے حسرتؔ، کوئی آزار ہو آزار کے بیچ

حسرت عظیم آبادی

Comments