دو عالم کا امداد گار آ گیا ہے

دو عالم کا امداد گار آ گیا ہے
امین آ گیا غم گسار آ گیا ہے

غریبوں کی جاں کو، یتیموں کے دل کو
سکوں ہو گیا ہے، قرار آ گیا ہے

اصول محبت ہے پیغام جس کا
وہ محبوب پروردگار آ گیا ہوں

اب انساں کو انساں کا عرفان ہوگا
یقیں ہو گیا، اعتبار ہو گیا ہے

بجھے گا نہ جس کا چراغ محبت
وہ پیغمبرﷺ ذی وقار آ گیا ہے

زمانے کو اب اپنی منزل مبارک
رسولوں کا اب سردار آگیا ہے
احسان دانش

Comments