ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تک
تِرا ہے کام کماں میں اسے لگانے تک
یہ تیر خود ہی چلا جاۓ گا نشانے تک
میں شیشہ کیوں نہ بنا، آدمی ہوا کیونکر
مجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تک
گئے ہوؤں نے پلٹ کر صدا نہ دی مجھ کو
میں کتنی بار گیا غار کے دھانے تک
تجھے تو اپنے پروں پر ہی اعتبار نہیں
تُو کیسے آۓ گا اڑ کر میرے زمانے تک
کیا تھا فیصلہ بنیادِ آشیاں کا نسیمؔ
ہوائیں تنکے اڑا لائیں آشیانے تک
افتخار نسیم
Comments
Post a Comment