روشنی پیار کی پھیلی ہے سیہ خانے میں
روشنی پیار کی پھیلی ہے سیہ خانے میں
آپ ہی آپ ہیں دیوانے کے افسانے میں
یاد اتنا ہے کہ پلکوں سے لہو ٹپکا تھا
کون سا رنگ ہے ساقی ترے پیمانے میں
تلخئ غم سے وہ محروم ہوئے ہیں شاید
تذکرہ جن کا نہیں صبح کے افسانے میں
کاسۂ چشم میں اشکوں کو سجانے دیجئے
آپ کیوں روتے ہیں ہنستے ہوئے میخانے میں
مجھ کو پینے کی اجازت تو ملی ہے، لیکن
زہرِ قاتل بھی ہے اور مے بھی ہے میخانے میں
کیوں پلاتا ہے ہمیں صبح کا امرت کہہ کر
رات کا زہر ہے ساقی ترے پیمانے میں
کب تلک جلتا رہوں صبح کے دامن میں خیالؔ
زندگی رک گئی ہے نور کے پھیلانے میں
فیض الحسن خیال

Comments
Post a Comment