داغ دہلوی کے منتخب اشعار
طبیب کہتے ہیں کچھ دوا کر، حبیب کہتے ہیں بس دُعا کر
رقیب کہتے ہیں اِلتجا کر ، غضب میں آیا ہُوں دل لگا کر
داغ دہلوی
تصویر کو بھی اُس کی یہاں تک غرور ہے
دیکھے کبھی نہ طالبِ دیدار کی طرف
داغ دہلوی
آنکھ لگتی ہے تو کہتے ہیں کہ نیند آتی ہے
آنکھ اپنی جو لگی، چین نہیں ، خواب نہیں
داغ دہلوی
تُو نے قاصد جو کہی دل کی لگی
یہ اُسی کافر کے منہ کی بات ہے
داغ دہلوی
Comments
Post a Comment