مہک رہے ہیں جو یہ پھول لب بہ لب مری جاں

مہک رہے ہیں جو یہ پھول لب بہ لب مری جاں
جو تم نہیں ہو تو پھر کون ہے سبب مری جاں
اداسیوں بھری شامیں جہاں سے آتی ہیں
وہیں سے آئی ہے یہ ساعتِ طرب مری جاں

مری کتابیں، مری خوشبوئیں، مری آنکھیں
تمہارے ہجر میں جاگے ہیں سب کے سب مری جاں
تمہارے ساتھ، جو گزرے تمہاری یاد کے ساتھ
نہ ویسے دن کبھی گزرے، نہ ویسی شب مری جاں
بہم ہوئے ہیں ذرا دیر کو تو خوش ہولیں
کسے خبر کہ بچھڑ جائے کون، کب مری جاں
کوئی دن اور کہ ہوجائیں گے فسانہ ہم
ہماری یاد ستائے گی تم کو تب مری جاں
بہت دنوں میں کہی میں نے اس طرح کی غزل
وگرنہ دل کی یہ حالت ہوئی تھی کب مری جاں
افتخار عارف 

Comments