وفائے عہد نبھالے یہ کیسے ممکن ہے
وفائے عہد نبھالے یہ کیسے ممکن ہے
محبتوں میں ازالے یہ کیسے ممکن ہے
شبِ فراق میں ڈوبی ہیں سسکیاں کتنی
حساب سارے لگا لے یہ کیسے ممکن ہے
تیری تلاش میں صحرا کی خاک چھانی ہے
پڑیں نہ پاؤں میں چھالے یہ کیسے ممکن ہے
نہیں ہے ساتھ مگر ہے یقیں بغیر میرے
وہ کوئی خواب سجا لے یہ کیسے ممکن ہے
رحیم ہے سبھی گرتوں کو تھام لیتا ہے
وہ رب مجھے نہ سنبھالے یہ کیسے ممکن ہے
خموشیاں بھی تو نائلہ ہیں صدائے دل
وہ سارے راز چھپا لے یہ کیسے ممکن ہے
نائلہ شیخ فلاحی
Comments
Post a Comment