اب تو بچاۓ مجھ کو خدا ہی


اب تو بچاۓ مجھ کو خدا ہی


ان کا تبسم, میری تباہی
حسن کے جلوے, عشق کے چرچے
میری وفا کی دیں گے گواہی
جلوہء رخ ھے پرتو رحمت
سایہء گیسو ظل الہی
راہ وفا میں کون کسی کا
عشق ہی منزل, عشق کی راہی
مجھ کو سنبھالیں آپ خدارا
چاہے سمجھ لیں مجھ کو برا ہی
دل کی لگی پھر شعلہ فگن ھے
آنچ نہ آۓ ان پہ, الہی !
چھوڑ کے ان کے شہر کی گلیاں
کون پھرے اب واہی تباہی
میں ہوں نصیر اب ان کا گداگر
بیٹھے بٹھاۓ مل گئی شاہی
پیر سید نصیر الدین نصیر 

Comments