حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

عام فیضانِ غم نہیں ہوتا
ہر نفس محترم نہیں ہوتا

نامرادی نے کردیا خوددار
اب سرِ شوق خم نہیں ہوتا

راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

ٹوٹ جاتا ہے دل مگر قابل
عشق مانوسِ غم نہیں ہوتا
قابل اجمیری

Comments