پھر وہ برسات دھیان میں آئی

پھر وہ برسات دھیان میں آئی
تب کہیں جان جان میں آئی

پھول پانی میں گر پڑے سارے
اچھی جنبش چٹان میں آئی

روشنی کا اتاپتا لینے
شبِ تیرہ جہان میں آئی

رقصِ سیّارگاں کی منزل بھی
سفرِ خاک دان میں آئی

آئینے سے نکل کے ایک پری
بازوؤں کی امان میں آئی

وہ مجھے ڈھونڈتی ہوئی ثروت
ایک دن گلستان میں آئی

ثروت حسین

Comments