نالے میں کبھی اثر نہ آیا
نالے میں کبھی اثر نہ آیا
اس نخل میں کچھ ثمر نہ آیا
اللہ ری میری بے قراری
چین ان کو بھی رات بھر نہ آیا
کہتا ہوں کہ آ ہی جاۓ گا صبر
یہ فکر بھی ہے اگر نہ آیا
غفلت کے پڑے ہوۓ تھے پردے
وہ پاس رہا نظر نہ آیا
آنکھوں سے ہوا جو کوئی اوجھل
بیخودؔ مجھے کچھ نظر نہ آیا
بیخود بدایونی
Comments
Post a Comment