آنکھوں میں ساون چھلکا ہوا ہے

آنکھوں میں ساون چھلکا ہوا ہے
آنسو ہے کوئی اٹکا ہوا ہے
آنکھوں کی ہچکی رکتی نہیں ہے
رونے سے کب دل ہلکا ہوا ہے؟

سینے میں ٹوٹی ہے چیز کوئی
خاموش سا ایک کھٹکا ہوا ہے
چاروں طرف تُو، بس تُو ہی تُو ہے
مجھ سے زیادہ بھٹکا ہوا ہے

گلزار

Comments