جو گزرتی ہے محبت میں بتا دیتے ہیں
جو گزرتی ہے محبت میں بتا دیتے ہیں
دل کی دھڑکن سے نیا شعر سنا دیتے ہیں
ہم نے سیکھا ہے لکیروں کو منقش کرنا
آئنہ دیکھ کے تصویر بنا دیتے ہیں
ھم ہیں خاموش تو پھر کوئی سبب ہی ہو گا
أپ کہتے ھیں تو پھر حشر اٹھا دیتے ھیں
دل کے مندر میں سجاتے ہو انا کے بت کیوں
تم کو کیا چیز یہ پتھر کے خدا دیتے ھیں
انکساری کی رسائ ھےدلوں تک ایسی
جو بھی ملتا ھے اسے دل سے دعا دیتے ھیں
پیار بهی کھیل بنایا ہے عجب لوگوں نے
ایک تصویر بناتے ہیں ، مٹا دیتے ہیں
ان پرندوں کے تعاقب میں نہ جانا زہرا
جب یہ اڑتے ہیں تو گھر بار بهلا دیتے ہیں
زہراء بتول
Comments
Post a Comment