اک کام سونپتے ہیں میاں کر سکو اگر
اک کام سونپتے ہیں میاں، کر سکو اگر
روشن چراغِ دل زدگاں کر سکو اگر
تصویرِ باغ و راغ بدل جائے دوستو
ان ٹہنیوں کو رنگ فشاں کر سکو اگر
مہکے ہمارا گھر بھی گلاب و سحاب سے
دو ایک دن قیام یہاں کر سکو اگر
وہ رنج جو کہ اور کسی سے کہے نہ ہوں
ہم سے بیان کر دو، بیاں کر سکو اگر
آئندگاں کو امن ملے، آشتی ملے
ثروت علاجِ شہرِ خزاں کر سکو اگر
ثروت حسین
Comments
Post a Comment