تم بھی ڈرتی ہو سرخ پھول سے کیا
تم اسی شہر کی لگی ہو مجھے
تم بھی ڈرتی ہو سرخ پھول سے کیا
بات بے بات لڑتی رہتی ہو
یہ بھی سیکھا کسی سکول سے کیا
چومنے کا ہے کوئی کفارہ
ٹوٹ جاتا ہے روزہ بھول سے کیا
وہ وھابن جو بات سنتی نہیں
شکوہ کردوں خدا رسول سے کیا
احمد عطاءاللہ
Comments
Post a Comment