جھوٹ میں سچ ملانا پڑ گیا ہے
وہی قضیہ پرانا پڑگیا ہے
جھوٹ میں سچ ملانا پڑ گیا ہے
آدھی عمروں کا رنج کھانے لگا
کم ہمیں یہ خزانہ پڑ گیا ہے
اب جلاؤں گا رات کو سورج
چاند کو دن میں آنا پڑ گیا ہے
ہونٹ سے جسم کی مسافت تھی
بیچ میں سرد شانہ پڑ گیا ہے
سب عطا پیار پیار کرتے تھے
عشق کر کے دکھانا پڑ گیا ہے
احمد عطاءاللہ
Comments
Post a Comment