موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں
موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں
دریا ترے وجود کا حصہ تو میں بھی ہوں
اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے
ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں
مجھ میں اور اس میں صرف مقدر کا فرق ہے
ورنہ وہ شخص جتنا ہے اتنا تو میں بھی ہوں
اس کا تو سوچ دنیا میں جس کا کوئی نہیں
تو کس لیے اداس ہے تیرا تو میں بھی ہوں
ظاہر کی آنکھ سے نظر آتا نہیں مجھے
لیکن حضور محوِ تماشا تو میں بھی ہوں
کیا بات ہے کہ لوگوں سے نبھتی نہیں مری
ویسے تعلقات بناتا تو میں بھی ہوں
اک آئینے میں دیکھ کے آیا ہے یہ خیال
میں کیوں نہ اس سے کہہ دوں کہ تجھ سا تو میں بھی ہوں
تیمور ڈوبتے ہوئے تارے سجھا گئے
مجھ کو بھی ڈوبنا ہے ستارا تو میں بھی ہوں
تیمور حسن تیمور
Comments
Post a Comment