یہ راہ بہت آسان نہیں
یہ راہ بہت آسان نہیں
جس راہ پہ ہاتھ چھڑا کر تم
یوں تنِ تنہا چل نکلی ہو
اس خوف سے شاید، راہ بھٹک جاؤ نہ کہیں
ہو موڑ پہ میں نے نظم کھڑی کر رکھی ہے
تھک جاؤ اگر
اور تم کو ضرورت پڑ جائے
اک نظم کی اُنگلی تھام کے واپس آ جانا
گلزار
Comments
Post a Comment