Posts

اب آسمانوں سے آنے والا کوئی نہیں ہے

بے عمل کو دنیا میں راحتیں نہیں ملتیں

یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں

وہ بہتے دریا کی بے کرانی سے ڈر رہا تھا

ہوا ہے دل مرا مشتاق تجھ چشم شرابی کا

میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا

دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطِر خاموش

ابن مریم ہوا کرے کوئی

نئی پگار کے خط افسروں کو جائیں گے

نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے

دھکے دیے ہیں دھوپ نے سائے گلے پڑے