اشعار
لال ڈورے تری آنکھوں میں جو دیکھے تو کھلا
مئے گل رنگ سے لبریز ہیں پیمانے دو
میاں داد خاں سیاح
ہیں یوں مست آنکھوں میں ڈورے گلابی
شرابی کے پہلو میں جیسے شرابی
نذیر بنارسی
ڈورے نہیں ہیں سرخ تری چشم مست میں
شاید چڑھا ہے خون کسی بے گناہ کا
سراج اورنگ آبادی
چھلنی چھلنی دل بھی جگر بھی روزن روزن سینہ بھی
ایک نگاہ ناز نے تیری تیر ہزاروں مارے ہیں
مبارک عظیم آبادی
جوانی دوانی سنا کیا نہیں
حسینوں کا ملنا ہی بھایا ہمیں
میر تقی میر
تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہے
کس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا
داغؔ دہلوی
یار ہم سے سیاہ بختوں کی
زلف تک کب رسائی ہوتی ہے
حقیر
وقت کڑھنے کے ہاتھ دل پر رکھ
جان جاتی رہے نہ آہ کے ساتھ
میر تقی میر
قبر عاشق پر مقرر روز آنا کیجیے
جو گیا ہو جان سے اس کو بھی جانا کیجیے
میر تقی میر
نہیں معلوم کس کو تاڑتے ہیں کس سے وعدہ ہے
بہ وقت شام پاس آ کر جو وہ چلمن کے بیٹھے ہیں
سردار گینڈا سنگھ مشرقی
چاک سینے کے ہمارے نہیں سینے اچھے
انھیں رخنوں سے دل و جان ہوا لیتے ہیں
میر تقی میر
صبح کو آئے ہو نکلے شام کے
جاؤ بھی اب تم مرے کس کام کے
حفیظ جونپوری
لڑائیں آنکھ وہ ترچھی نظر کا وار رہنے دیں
لڑکپن ہے ابھی نام خدا تلوار رہنے دیں
بیخود دہلوی
Comments
Post a Comment