تیرے ضمیر کو تیرے خلاف میں نے کیا
تیرے ضمیر کو تیرے خلاف میں نے کیا
گناہ تجھ سے ہُوا اعتراف میں نے کیا
خلوصِ دل سے جو تنقید کی گئی مجھ پر
تو اپنی رائے سے بھی اختلاف میں نے کیا
سزائیں دی گئیں اوروں کے جُرم کی مجھ کو
مگر حریف کو اپنے معاف میں نے کیا
تیری غبار سی آنکھوں میں کوئی شکل نہ تھی
سمجھ کے آئنہ پتھر کو صاف میں نے کیا
زبانِ لمس بھی ہوتی ہے گفتگو کے لیے
تیرے سکوت پہ یہ انکشاف میں نے کیا
پروں کی دھار سے کاٹیں بلندیوں کی رگیں
چٹان جیسی فضا میں شگاف میں نے کیا
کیے ہواؤں کے احرام زیب تن پہلے
جو خوشبوؤں کا مظفر طواف میں نے کیا
مظفر وارثی

Comments
Post a Comment