کبھی جو آئینہ ہم اس کے روبرو کرتے
کبھی جو آئینہ ہم اس کے روبرو کرتے
اسی کے لہجے میں ہم اس سے گفتگو کرتے
وہ میری ذات میں شاید کہیں تھا پوشیدہ
وہ مل ہی جاتا اگر اپنی جستجو کرتے
رگوں میں خون تھا باقی نہ اشک آنکھوں میں
کسی کے سامنے کیا خود کو سرخرو کرتے
کیا ہےترکِ تعلق کا فیصلہ ہم نے
کہاں تک اپنی تمناؤں کا لہو کرتے
بچا کے پیراہنِ جانِ جنوں سے رکھ ورنہ
تمام عمر گزر جائے گی رفو کرتے
پری جمال تھے سارے ہی شہر میں اس کے
ہم ایک جاں لئے کس کس کی آرزو کرتے
اجازت آبلہ پائی ہمیں اگر دیتی
بنامِ دست یہ اعزارِ رنگ و بو کرتے
زرا سی دیر میں پھولوں کا رنگ اڑ جاتا
ہمارے زخم اگر خواہشَ نمو کرتے
بتا دیا اسے اعجاز ہم نے نام اپنا
اب اور اپنے تعارف میں کیا غلو کرتے
اعجاز رحمانی

Comments
Post a Comment