تجھ بن بھی جینے کا حیلہ کر دے گا

تجھ بن بھی جینے کا حیلہ کر دے گا
اوپر والا اور وسیلہ کر دے گا
ھرا رھا یہ شک کا موسم یونہی تو
پیار کے ھر اک پیڑ کو پیلا کر دے گا
کبھی یہاں سے اونٹوں والے گزریں گے
کبھی کوئی آباد یہ ٹیلہ کر دے گا
روک لو یارو میری آنکھ کے پانی کو
ورنہ یہ ھر منظر گیلا کر دے گا
کرتے رھنا فہمی کاغذ کالے تم
ضبط وگرنہ جسم کو نیلا کر دے گا

شوکت فہمی

Comments