لگتا تو نہیں الماری سے
لگتا تو نہیں الماری سے
وہ شخص گیا تیاری سے
سچ پوچھ تو بے ایمانی ہے
ہر عشق دیانت داری سے
تاخیر گوارہ کر لیتے
تو بچ جاتے دشواری سے
کچھ پھول ابھرے خود کاغذ پر
کچھ ابھرے نقش نگاری سے
کیوں بات بڑھانا چاہتے ہو
تم اپنی کم گفتاری سے
اظہر ہم دور کے چوروں کو
ہلکا بہتر ہے بھاری سے
اظہر فراغ
Comments
Post a Comment