بے رحمی خیال سے آگے کی چیز ہے
بے رحمی ء خیال سے آگے کی چیز ہے
وہ حرف کے جمال سے آگے کی چیز ہے
کرنے لگا ہے زیرو زبر ساری کا ئنات
یہ عشق کچھ جلال سے آگے کی چیز ہے
ٹپکا رہا ہے ذہن پہ سیال روشنی
کشفِ دروں اجال سے آگے کی چیز ہے
آنکھوں کو بھیگنے سے تسلی نہیں ہوئی
لہجے میں اک ملال سے آگے کی چیز ہے
من تک پہنچ گئی کوئی پُر کیف سی دہک
شانوں پہ کوئی شال سے آگے کی چیز ہے
موجود ہے جو ہونے نہ ہونے کے درمیاں
یہ لمحہ ماہ و سال سے آگے کی چیز ہے
رکھتی ہوں جوڑ جوڑ کے نیرنگئی خیال
مجھ میں کوئی سنبھال سے آگے کی چیز ہے
ہم جان پائے ذہنی ہم آہنگی کے طفیل
ربطِ بہم وصال سے آگے کی چیز ہے
حاضر ہیں یوں تو سارے جوابات صائمہ
دل میں مگر سوال سے آگے کی چیز ہے
صائمہ اسحاق
Comments
Post a Comment