یوم پاکستان کے حوالے سے ایک نظم

اس زمیں کے ہونے سے اب ہمارا ہونا ہے
یہ زمیں ہی چاندی ہے یہ زمیں ہی سونا ہے
رنگ اور خوشبو کی ہر طرف ضیاءرکھنا
اِس حَسین گلشن کو تم ہرا بھرا رکھنا
یہ جمیل ہریالی رُوح میں سمونا ہے
یہ زمیں ہی چا ندی ہے یہ زمیں ہی سونا ہے
عزم کے چراغوں سے دل کی رہگزر چمکے،
چاندنی کے ساون میں ایک ایک گھر دَمکے
زندگی کے دھاگے میں روشنی پرونا ہے
یہ زمیں ہی چاندی ہے یہ زمین ہی سونا ہے
اِس پہ رَب کعبہ کی برکتیں برستی ہیں
آخری پیمَبر کی رحمتیں برستی ہیں
یہ زمیں ہی اب اپنا اوڑھنا بچھونا ہے
اس زمیں کے ہونے سے اب ہمارا ہونا ہے

نجیب احمد

Comments