خون کا سفید رنگ ذرا دیر سے ہوا

خون کا سفید رنگ ذرا دیر سے ہوا
میں آدمی سے سنگ ذرا دیر سے ہوا

اک عمر سے تھا جو مرے اندر چھپا ہوا
ظاہر وہ اک ملنگ ذرا دیر سے ہوا

اپنے ہی آپ سے مری لڑتے گزر گئی
دنیا سے محو ِ جنگ ذرا دیر سے ہوا

میرے خلوص نے مری دانائی چھین لی
میں دوستوں پہ دنگ ذرا دیر سے ہوا

جو مصلحت نے میرے قلم پر لگا دیا
فہمی وہ صاف زنگ ذرا دیر سے ہوا

شوکت فہمی

Comments