اب تک تم کو دیکھ رہا تھا رنگوں کے پیرائے میں

اب تک تم کو دیکھ رہا تھا رنگوں کے پیراۓ میں
تم تو سچ مچ ایک مجسم نظم ہو میری راۓ میں
اپنی جانب کھینچ رہے ہیں مجھ ایسے درویش کو بھی
ایسی پراسرار کشش ہے عورت اور سرماۓ میں
چھونےسے اک بھیدکھلا ہے ایک کھلا ہے چکھنے سے
دو قدریں تو اک جیسی ہیں تجھ میں اور اس چاۓ میں
میں نے یوں بھی لطف اٹھایا سورج کی ہم راہی کا
آخر کتنا چل سکتا تھا دیواروں کے ساۓ میں
جب سگریٹ سے ہونٹ جلے تھے تب یہ مجھکو یاد آیا
میں نے آگ کو چوم لیا تھا مٹی کے بہکاۓ میں
نیند پرائے بستر پر بھی آجاتی ہے لیکن دوست
گھر جیسا ماحول کہاں ملتا ہے کسی سراۓ میں
خواہش کا یہ ریشم عارض دانتوں سےکب کٹتا ہے
کوشش کرتے رہنے سے ہی آئے گا سلجھائے میں
آفتاب عارض

Comments