دوستوں سے یہ ملی داد وفاداری کی

دوستوں سے یہ ملی داد وفاداری کی
تہمتیں سر پہ لیے پھرتے ہیں غداری کی
صرف اک شخص تھا جس نے مرا دل توڑا تھا
میں نے کیوں سارے زمانے کی دلآزاری کی
کچھ منافق بھی مرے حلقۂ احباب میں تھے
سو میں نے بھی ان سے محبت کی اداکاری کی
میں نے پھر اس سے کبھی عشق کا دعویٰ نہ کیا
اس نے اک شرط لگا دی تھی وفاداری کی

سرشار صدیقی

Comments