خوشبو جیسی لڑکی کے لیے ایک نظم

خوشبو جیسی لڑکی کے لیے ایک نظم
تیرے دل سے
مرے دل تک
یہ جو خوشبو کا سفر ہے
اِسے جاری رکھنا
میں نے خوشبو سے جو پیمانِ وفا باندھا ہے
میں نے خوشبو سے جو باتیں کی ہیں
میں نے خوشبو کے دھڑکتے ہوٸے دل سے جو محبت کی ہے
تیری خوشبو کے تعاقب میں گزارے ہوٸے دن
تیری خوشبو سے مہکتی ہوٸی ساری راتیں
تیرے گیسو، تیرے رخسار سے آتی خوشبو
تیرے ہونٹوں سے تکلّم کی برستی خوشبو
تیرے شانوں سے ڈھلکتی ہوٸی خوش رنگ ردا
تیری آنکھوں میں چمکتے ہوٸے سارے جگنو
تم سے کہتے ہیں کہ اے جانِ جہاں
یہ جو خوشبو کا سفر ہے
اِسے جاری رکھنا
اِسے جاری رکھنا
ڈاکٹر محمد کامران

Comments