ہوا کہیں کی بھی ہو، ہم نوا کسی کی بھی ہو

ہوا کہیں کی بھی ہو، ہم نوا کسی کی بھی ہو
حصارِ حبس  کو توڑے، عطا کسی کی بھی ہو
ہمارے شعر کا ہر جرم پوش، عدل فروش
ہمارے نام لکھے گا، خط ا کسی کی بھی  ہو
عجب تعلقِ خاطر ہر اک اسیر سے ہے
کہ توڑنا ہے، وہ زنجیر پا کسی کی بھی  ہو
بلند ہو ترا درجہ، دراز ہو تری عمر
خُدا قبول کرے، یہ دعا کسی کی بھی  ہو
دیارِ حرف کا ہر دوسرا سخن آرا
پہن کے خوش ہے، پرانی قبا کسی کی بھی ہو
ہم ایسے شعر شناسوں کے واسطے محسنؔ
ہے ناگوار، صدائے انا کسی کی بھی  ہو
محسنؔ احسان

Comments